easywords: POETRY ABOUT SAD

I will describe you some things in my blog that can be used in your daily life even better and highlight some facts that we do not know about it.

Showing posts with label POETRY ABOUT SAD. Show all posts
Showing posts with label POETRY ABOUT SAD. Show all posts

Saturday, August 13, 2022

POETRY "About Sad"

August 13, 2022 0
POETRY "About Sad"

 یار ہم ہیں نا تیرا ساتھ نبھانے والے 

یہی کہتے تھے مجھے چھوڑ کے جانے والے


کتنی قبریں ہیں میرے دل میں علی تجھے کیا معلوم

کتنے قصے ہیں تجھے دوست سنانے والے😔

POETRY 'about sad"

August 13, 2022 0
POETRY 'about sad"

 کہانی کار کو قربت سے مسئلہ نہ رہے

ہمارے بیچ ہوا بھر بھی فاصلہ نہ رہے


دعائیں کر کہ ہمیں بد دعا یہ لگ جائے

ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی ترے سوا نہ رہے


تو چاہتا ہے کہ تجھ سے میں فاصلے رکھوں

تو چاہتا ہے کہ خوشبو سے واسطہ نہ رہے


کبھی کبھی تو تجھے بدعا بھی دیتا ہوں 

مرے علاوہ ترا کوئی راستہ نہ رہے

Sunday, August 7, 2022

POETRY "ABOUT SAD"

August 07, 2022 0
POETRY "ABOUT SAD"

 ایک میں ہوں کہ جاتا نہیں در پہ اس کے 

اک وہ ہے کہ صداؤں پہ صدائیں دیئے جا رہا ہے 


ایک میں ہوں کہ کتراتا نہیں گناہوں سے 

اک وہ ہے کہ بے حساب دیئے جا رہا ہے

POETRY "ABOUT SAD"

August 07, 2022 0
POETRY "ABOUT SAD"

 یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئ جگہ سے پھٹی ہوئ ہے

تم اس کے گاوں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہونگی

مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی
تھکے ہووں کو کہاں پتہ تھا کہ صحبتیں یوں بد حواس ہونگی

تو دیکھ لینا کاظم کے بچوں کے بال جلدی سفید ہونگے
میری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہونگی

کہیں ملیں تم کو بھوری رنگت کی گہری آنکھیں، مجھے بتانا
میں جانتا ہوں کہ ایسی آنکھیں بہت اذیت شناس ہونگی

میں سردیوں کی ٹھٹھرتی شاموں کے سرد لمحوں میں سوچتا ہوں
وہ سرخ ہاتھوں کی گرم پوریں نجانے اب کس کو راس ہونگی

یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئ جگہ سے پھٹی ہوئ ہے
تم اس کے گاوں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہونگی

POETRY "SAD"

August 07, 2022 0
POETRY "SAD"

 ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی

یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم 



مطلب کبھی ایسی ریل دیکھی ہے جو سینے پر چلتی ہے 

جس طرح وہ پٹریوں پر چلتی سب کچھ ہلاتے ہوئے

اور چیرتی ہوئی سینے کو

تمہیں یاد تو ہوگا کہ جس طرح تمہیں اس ریل سے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ہاتھ ہلاتے ہوئے 

تمہارا جانا اسی ریل کی طرح تھا جو میرے دل پر گزر رہی تھی 

مجھے چیرتی ہوئی