تھی وہ میکدے کی اک نظر
میں تھا شربِ خمر کا ہمسفر
تو جو حشر بر پا کرگئی
میری ساری عمر کا تھا صبر
مجھے قیدی اپنا بنا گئی
میں جو ہر جگہ کا تھا حر پسند
میں وصالِ یار کی ضد میں تھا
وہ کمالِ حسن کی اک جھلک
میں تھا آنکھ سے باحجاب شخص
وہ تھی آنکھ سے حسنِ ملک
میں جو فخرِ ذاتِ انا میں مست
وہ انا کی تھی مجھ سے الگ
میں فراقِ دل سے مرا نہیں
وہ وصالِ یار کے دکھ سے مرگ
کاظم خمارِ غم کے حصار میں
وہ تھی صنفِ ناز کی ماہ وش
میں ہوں عبد اس معبود کا
جو ہے قادر و کلِّ خلق کا
مجھے کرب ایسے ملے ہیں
میری بات بات پہ ہے سسک