کہانی کار کو قربت سے مسئلہ نہ رہے
ہمارے بیچ ہوا بھر بھی فاصلہ نہ رہے
دعائیں کر کہ ہمیں بد دعا یہ لگ جائے
ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی ترے سوا نہ رہے
تو چاہتا ہے کہ تجھ سے میں فاصلے رکھوں
تو چاہتا ہے کہ خوشبو سے واسطہ نہ رہے
کبھی کبھی تو تجھے بدعا بھی دیتا ہوں
مرے علاوہ ترا کوئی راستہ نہ رہے
No comments:
Post a Comment