یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئ جگہ سے پھٹی ہوئ ہے
تم اس کے گاوں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہونگی
مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی
تھکے ہووں کو کہاں پتہ تھا کہ صحبتیں یوں بد حواس ہونگی
تو دیکھ لینا کاظم کے بچوں کے بال جلدی سفید ہونگے
میری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہونگی
کہیں ملیں تم کو بھوری رنگت کی گہری آنکھیں، مجھے بتانا
میں جانتا ہوں کہ ایسی آنکھیں بہت اذیت شناس ہونگی
میں سردیوں کی ٹھٹھرتی شاموں کے سرد لمحوں میں سوچتا ہوں
وہ سرخ ہاتھوں کی گرم پوریں نجانے اب کس کو راس ہونگی
یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئ جگہ سے پھٹی ہوئ ہے
تم اس کے گاوں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہونگی
No comments:
Post a Comment