"تُمہیں خبر ہے، تُم آخری تھی؟"
"تُمہیں خبر ہے، تُم آخری تھی؟"
سراب جیسا وصال دے کر
پلٹ گئی ہو
مُجھے امیدوں سے تب بھی کوئی امید نا تھی
مُجھے اُمیدوں سے اب بھی کوئی اُمید نہیں ہے
مگر جلن ہے
میرا سینہ تندور کر کے پلٹ گئی ہو
تُمہارے سارے گناہ مینے اپنے ہی سر لئے ہیں
تمہیں خبر ہے؟
مَیں زندگی بھر خطائیں کر کے
دُعائیں کر کے نہ گڑگڑایا
تُمہارے بعد اب تُمہاری خاطِر
مُجھے دعاؤں کی لَت لگی ہے
جو تُم سے پہلے کا واقعہ تھا
اُسے تو بس سرسری لیا تھا
مگر مُجھے یہ خبر کہاں تھی
تم آخری ہو؟
سو اب تو آؤ اور آ کے دیکھو
مَیں عِشقِ تھل کا کوئی پُنَل ہوں
وجود کھاتی ہے ریت جس کا
مذاق اُڑاتی ہے رات جس کا
تُمہیں خبر ہے؟
No comments:
Post a Comment