میں اِک عام سا لڑکا
اُلجھنیں بَڑی خاص لیے پِھرتا ہوں
غمِ دَوراں سے لڑتا جھگڑتا
مگر چَشمِ تَر میں اِک آس لیے پِھرتا ہوں
سوزِ دل نہ کر سَکوں جب بیاں کسی سے
اپنی ہی شاعری اُداس لیے پِھرتا ہوں
کوئی نہ جان سکا ہے اب تک جو مَنطق میری
اپنے ہی وَہم و گُمان کے_اَرکانِ قِیاس لیے پِھرتا ہوں
مَن کے صحرا میں آرزُؤں کی پیاس لیے پِھرتا ہوں
سَانولی رَنگت کا اِک عام سا لڑکا
اُلجھنیں بَڑی خاص لیے پِھرتا ہے
.jpg)
Nice poetry
ReplyDelete