"سنو گڑیا"
ابھی تم عشق مت کرنا
ابھی گڑیا سے کھیلو تم
تمہاری عمر ہی کیا ہے
فقط سولہ برس کی ہو
ابھی معصوم بچی ہو
نہیں معلوم ابھی تم کو
کہ جب ہی عشق ہوتا ہے
تو انسان کتنا روتا ہے
ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سہارے چھوٹ جاتے ہیں
ابھی تم نے نہیں دیکھا
کہ جب ساتھی بچھڑتے ہیں
تو کتنا درد ملتا ہے
کہ ہر فرقت کے موسم میں
ہزاروں غم ابھرتے ہیں
ہزاروں زخم کھلتے ہیں
سنو گڑیا میری مانو
پڑھائی پر توجہ دو
کتابوں میں گلابوں کو
کبھی بھولے سے مت رکھنا
کتابیں جب بھی کھولو گی
یہ کانٹوں کی طرح دل میں
چبھیں گے خون بہائیں گے
تمہیں پہروں ستائیں گے
کسی کو خط نہیں لکھنا
لکھائی پکڑی جاتی ہے
بڑی رسوائی ہوتی ہے
کسی کو فون مت کرنا
وہ آوازیں ستاتی ہیں
میری نظمیں نہیں پڑھنا
یہ محشر اٹھا دیں گی
تمہیں پاگل بنا دیں گی
کاظم کی بات مانو گڑیا
اپنی تقدیر سے تم کھل کے مت لڑنا
ابھی گڑیا سے کھیلو تم
ابھی تم عشق مت کرنا۔
Nice poetry 👍☺️
ReplyDelete