(جشن آزادی اور محرم الحرام)
جمعہ المبارکہ کا دن تھا رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تھی۔
اگست کی 14 ہویں تاریخ تھی اور سال 1947 کا تھا۔
یہ وہ دن تھا جب اللہ تعالی کے فضل و کرم نے جوش مارا اور ہمیں انگلستان سے نکال کر ملکِ پاکستان کا وجود بخشا
یہی وہ دن تھا کہ جب برِ صغیر کے مسلمانوں نے انگریز کی غلامی سے آزادی حاصل کی اور اپنی ایک آزاد مملکت بنائی، ، لیکن آج افسوس ہوتا ہے اس قوم پر کہ اس قوم کو آزادی کی تعریف تک یاد نہیں کہ" آزاد" کسے کہتے ہیں۔
آزادی کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے ملک میں اسلامی نظام کو نافذ کریں گے اللہ تعالی کے حکم کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چلنے دیں گے، لیکن ہم جشنِ آزادی بھی مناتے ہیں اور ہزاروں کے سامنے جھکتے بھی ہیں پھر ہمارا آزادی سے کیا تعلق ہوا؟۔
موضوع بہت طویل ہوتا چلا جائے گا اگر یوں سوال کیا جائے تو بے جا نا ہوگا کہ یہ قوم آزادی کس بات کی مناتی ہے ؟۔
سو تو ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے اور خدائی نظام قائم کرنے کے لیے ، جوکہ شریعت محمدیہ کی شکل میں ہمیں عطا کیا گیا۔
اور پاکستان بھی اسی نظریے پر آزاد ہوا تھا کہ لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔
اور اسی نظریے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے
کہاس دفعہ، چوں کہ 14 اگست محرم الحرام کے مہینے میں آنے والا ہے۔
اور ماہِ محرم حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے، لہٰذا اس مہینے کی عظمت اور عزت کا خیال رکھتے ہوئے ہم جشن آزادی شرعی حدود میں رہتے ہوئے منائیں'۔
یوں شرعی حدود کو پامال کرتے ہوئے باجے بجانا شور شرابہ برپا کرنا گلی کوچوں میں ساونڈ لگاکر اڑوس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کو تنگ کرنا انسانیت نہیں، بلکہ انسانی حقوق کی بھی پامالی ہے اور شرعی حدود کی بھی۔
میری نوجوان طبقے سے گزراش ہے کہ۔
آزادی کا دن اس لیئے نہیں منایا جاتا کہ ہم سارا دن باجے بجا بجا کر بھاگ دوڑ لگا لگا کر رات تھکے ہارے گھر لوٹ آئیں اور مقصودِ اصلی کو زمیں بوس کر آئیں، بلکہ یہ دن اسلیئے منایا جاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کی آزادی میں خون بہایا۔
قربانیاں دیں، لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اندر آزادی کا جذبہ پیدا کریں۔
اور ان قربانیوں کو یاد رکھ کر وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔
یاد رکھیں اس وطن کی آزادی میں علما کا خون بہا ہے اور اس کا صحیح معنوں میں حق تبھی ادا کیا جاسکتا ہے کہ ہم اس دن شہدا وطن کے لیے قرآنِ مجید پڑھ کر ایصالِ ثواب کریں نا کہ رقص کر کے ان کی روحوں کو تکلیف پہنچائیں۔
اور اس دن میں منعقد ہونے والی بڑی بڑی تقریبات میں بھی اسی بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ہم ان بزرگوں کی قربانیاں ضائع نا کریں، بلکہ انھی جیسا جذبہ پیدا کریں اور وقت آنے پر وطن عزیز کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیں!۔
سو تو یہ سب تبھی ممکن ہوگا جب ہم اپنی رگوں میں شہدائے وطن کی دی ہوئی قربانیاں رچا اور بسا لیں گے

zabardust
ReplyDeleteمَا شَاءَ ٱللَّٰهُ بہترین تحریر۔ ٱللَّٰه پاک ہم سب کو ان تمام باتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے آمین۔
ReplyDeleteameen
Deleteبہترین تحریر۔ اللہ پاک ہم سب کو ان تمام باتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے آمین۔
ReplyDeleteBeautifuly Written 💎
ReplyDeleteMa Sha Allah
ReplyDelete