easywords: REAL STORY

I will describe you some things in my blog that can be used in your daily life even better and highlight some facts that we do not know about it.

Showing posts with label REAL STORY. Show all posts
Showing posts with label REAL STORY. Show all posts

Sunday, August 14, 2022

REAL STORY "LADY AND DEVIL"

August 14, 2022 2
REAL STORY "LADY AND DEVIL"

lady and devil story

 "خاتون اور شیطان"


ایک بوڑھی خاتون نے ریڈیو اسٹیشن فون کیا کہ

وہ کئ دنوں سے بهوکی ہے اور کئ دنوں سے صرف سوکھی روٹی اور پانی پر گزار کر رہی ہے اور کہا کہ

اللہ کی راہ میں اسے کچھ کهانے کے لئیے دیا جائے....

ایک منکر خدا بهی اس کی گفتگو سن رہا تها اور اس کو ایک مذاق کی عادت سوجهی.

اس نے کهانے پینے کی اشیاء خریدیں اور اس بوڑهی عورت کا ایڈرس معلوم کرنے کے بعد اپنے نوکر سے بولا کہ جا کر اس بوڑهی عورت کو دے آؤ.

اور جب وہ پوچھے کہ کس نے بهیجا ہے تو بتانا یہ شیطان کی طرف سے تحفہ ہے.....

وہ بوڑھی عورت اتنے زیادہ کهانے کا سامان دیکھ کر بهت خوش ہوئ

اور جلدی اپنے گهر کے کونے میں وہ رکهنے لگی.

ایسے میں نوکر نے پوچھا کیا آپ معلوم نہیں کرنا چاہیں گی کہ یہ سامان کس نے بهیجا ہے؟؟

یہ سن کر وہ بولی......

"مجھے اس کی کوئ پرواہ نہیں کہ

کس نے بهیجا ہے

مگر اتنا معلوم ہے کہ جب میرے رب کا حکم آتا ہے

.!!!تو شیطان بهی حکم کی تعمیل کرتا ہے"!!!!

"Lady and devil" an old woman called the radio station that she has been awake for many days and has been spending only on dry bread and water for many days and said that in the way of Allah, she should be given something to eat. A disbeliever was listening to his conversation and thought of it as a joke. He bought food items and after finding out the old woman's address, he told his servant to go and give it to the old woman. And when he asks who has sent, it is a gift from the devil. The old woman was very happy to see such a lot of food and she quickly kept it in the corner of her house. In such a way, the servant asked, would you not want to know who has sent this item? After hearing this, he bid "I do not care who has sent, but it is known that when the command of my Lord comes, the devil obeys the order "!!

INDEPENDENCE DAY' 14 AUGUST(CELEBRATION FREEDOM AND MUHARRAN UI HARAM

August 14, 2022 1
INDEPENDENCE DAY' 14 AUGUST(CELEBRATION FREEDOM AND MUHARRAN UI HARAM

idependence day'14 august ,pakistan flag

 (Celebration of freedom and Muharram al-Haram)
was the day of Friday, the last few days of Ramadan. There was 14th history of August and was the year 1947. It was the day when the grace of Allah and the weaknesses of the earth and the weapon of the country was born in the same way that the Muslims of the world was born independence from the slavery of the British and made a free state, but today regret that nation does not remember the nation to say that the independence is called "free". Independence means that we will enforce Islamic system in our country, they will not allow anyone else to command any other commandments, but we also celebrate the celebration freedom and they are rotated in front of thousands, then what was our relationship with us? The topic will go too long if it is as if the question is, then what does this nation celebrate? So we had received this country to establish life according to Islamic teachings and to establish a signs, which was given to us in Shape of Muhammadiyah. And Pakistan was also free on the same idea that Lahore Al-Allah (No god besides Allah). And keeping the ideology, we should have this time, the August 14 is coming in the month of Muharram al-Haram. And month is a month of months of mahram, so keep considering the celebration of the month of the month and celebrate the celebration of the month of the month. As a palm radiation, the bowling bowling, the bowling of the bowling, the bowl is not to humanistic the people living in the armorist, but also the human rights, and also of the rights of the rights. It is a lot of time to meet my young class. The day of independence is not celebrated that we all day bowling and running away from the night, and returned to the night, and destroy the migrants, and it is celebrated for the day that our elders blew blood in the land of the country. Give sacrifices, so we also need to create a passion of freedom inside yourself. And remember these sacrifices and always keep the protector of protecting love. Remember that the blood of scholars in the land of the country is flowing and it is true that it can be paid right to us that we read the Quran for the martyrdom and do not dance with their dances. And in this day, in the biggest events held in this day, it is emphasized that we should not be sacrificed sacrifices of these elders, but also create passions like them, and sacrifice everything in love for the loved ones after coming time! So it will be possible that all the time we will be sacrificed and sacred in our veins.

Saturday, August 13, 2022

Independence Day Story

August 13, 2022 6
Independence Day Story

 (جشن آزادی اور محرم الحرام)


pakistan flag

جمعہ المبارکہ کا دن تھا رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تھی۔

اگست کی 14 ہویں تاریخ تھی اور سال 1947 کا تھا۔

یہ وہ دن تھا جب اللہ تعالی کے فضل و کرم نے جوش مارا اور ہمیں انگلستان سے نکال کر ملکِ پاکستان کا وجود بخشا

 یہی وہ دن تھا کہ جب برِ صغیر کے مسلمانوں نے انگریز کی غلامی سے آزادی حاصل کی اور اپنی ایک آزاد مملکت بنائی، ، لیکن آج افسوس ہوتا ہے اس قوم پر کہ اس قوم کو آزادی کی تعریف تک یاد نہیں کہ" آزاد" کسے کہتے ہیں۔

آزادی کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے ملک میں اسلامی نظام کو نافذ کریں گے اللہ تعالی کے حکم کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چلنے دیں گے، لیکن ہم جشنِ آزادی بھی مناتے ہیں اور ہزاروں کے سامنے جھکتے بھی ہیں پھر ہمارا آزادی سے کیا تعلق ہوا؟۔

موضوع بہت طویل ہوتا چلا جائے گا اگر یوں سوال کیا جائے تو بے جا نا ہوگا کہ یہ قوم آزادی کس بات کی مناتی ہے ؟۔

سو تو ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے اور خدائی نظام قائم کرنے کے لیے ، جوکہ شریعت محمدیہ کی شکل میں ہمیں عطا کیا گیا۔

اور پاکستان بھی اسی نظریے پر آزاد ہوا تھا کہ لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔


اور اسی نظریے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے
کہ 

اس دفعہ، چوں کہ 14 اگست محرم الحرام کے مہینے میں آنے والا ہے۔

اور ماہِ محرم حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے، لہٰذا اس مہینے کی عظمت اور عزت کا خیال رکھتے ہوئے ہم جشن آزادی شرعی حدود میں رہتے ہوئے منائیں'۔

یوں شرعی حدود کو پامال کرتے ہوئے باجے بجانا شور شرابہ برپا کرنا گلی کوچوں میں ساونڈ لگاکر اڑوس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کو تنگ کرنا انسانیت نہیں، بلکہ انسانی حقوق کی بھی پامالی ہے اور شرعی حدود کی بھی۔

میری نوجوان طبقے سے گزراش ہے کہ۔

آزادی کا دن اس لیئے نہیں منایا جاتا کہ ہم سارا دن باجے بجا بجا کر بھاگ دوڑ لگا لگا کر رات تھکے ہارے گھر لوٹ آئیں اور مقصودِ اصلی کو زمیں بوس کر آئیں، بلکہ یہ دن اسلیئے منایا جاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کی آزادی میں خون بہایا۔

قربانیاں دیں، لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اندر آزادی کا جذبہ پیدا کریں۔

اور ان قربانیوں کو یاد رکھ کر وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔

یاد رکھیں اس وطن کی آزادی میں علما کا خون بہا ہے اور اس کا صحیح معنوں میں حق تبھی ادا کیا جاسکتا ہے کہ ہم اس دن شہدا وطن کے لیے قرآنِ مجید پڑھ کر ایصالِ ثواب کریں نا کہ رقص کر کے ان کی روحوں کو تکلیف پہنچائیں۔

اور اس دن میں منعقد ہونے والی بڑی بڑی تقریبات میں بھی اسی بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ہم ان بزرگوں کی قربانیاں ضائع نا کریں، بلکہ انھی جیسا جذبہ پیدا کریں اور وقت آنے پر وطن عزیز کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیں!۔

سو تو یہ سب تبھی ممکن ہوگا جب ہم اپنی رگوں میں شہدائے وطن کی دی ہوئی قربانیاں رچا اور بسا لیں گے 


REAL STORY

August 13, 2022 0
REAL STORY

 "یہی ہے اصل مردانگی"


بیوی غصّے پہ

 کنٹرول نہ کرتے ہوئے

 اپنے شوہر سے کہنے لگی

 اگر تم مرد ہو تو مجھے

 طلاق دو

 ایک سیکنڈ بھی میں

 تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی

اس کا شوہر خاموشی سے اس کی بات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرنے لگا

لیکن بیوی نے پھر کہا تم مرد نہیں اگر ہو تو مجھے طلاق دو

حالانکہ اس کی بیوی نیک پاکباز اور اچھی سیرت والی عورت تھی لیکن یہ سب غصہ کی حالت میں اس کی زبان سے نکل رہا تھا اور اس موقع پر شیطان پوری کوشش میں تھا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے الگ کردے

عورت کا غصہ جب اور بڑھا تو کہا اگر تم مرد ہو تو یہ کرو وہ کرو وغیرہ وغیرہ

آخر کار بیوی نے کہا مجھے ابھی فوراً تمہارا جواب چاہئے اور تم مجھے اسی وقت جواب دو بالآخر آدمی نے مجبور ہو کر ایک کاغذ میں چند سطریں لکھ کر لفافے کے اندر رکھ کر اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا جاؤ فی امان اللّٰہ یہ وہ دروازہ ہے جس سے تم میرے ساتھ آئی تھیں میں نے ثابت کر دیا کہ میں ایک مرد ہوں تم ابھی اپنے میکے جاؤ

چنانچہ عورت نے اپنا سامان وغیرہ باندھ کر اٹھایا اور اپنے میکے کی طرف چل دی

جب یہ بات لوگوں میں پہنچی تو کسی کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ آدمی بڑا نیک اور رحم دل انسان ہے یہ کیسے ہو سکتا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایسا برتاؤ کرے

ادھر میکے میں بیوی کے دن گزرتے گئے اور آہستہ آہستہ اس کا دل وہاں گھٹنے لگا اسے تنہائی ستانے لگی تو ایک دن اس نے شوہر کو فون کیا اور رونے لگی کہا تم میرا سب کچھ ہو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی 

تم میرا سب کچھ ہو 

میری جان ہو 

میری روح ہو

بس تم ہی سب کچھ ہو

وغیرہ وغیرہ

آدمی نے جواب دیتے ہوئے کہا 

اُمّ محمد! تم آخر اب مجھ سے کیا چاہتی ہو؟

بیوی نے کہا میں غلط تھی اور کہا مانا کہ تم مرد ہو لیکن میں ایک ناقص العقل عورت ہوں

آدمی نے جواب دیا یہ تو تمہارا مطالبہ تھا جو میں نے پورا کر دیا اور تم مجھے ثابت کرنے دو کہ میں مرد ہوں

بیوی نے کہا مانا کہ تم مرد ہو لیکن میں ایک ناقص العقل عورت ہوں

آدمی نے جب دیکھا کہ عورت اس کے سامنے اپنی بے بسی اور دکھ کا اظہار کر رہی ہے تو اس نے کہا اچھا جاؤ ذرا وہ لفافہ کھول کر دیکھو تو سہی جو میں نے تمہیں لکھ کر دیا تھا

عورت فون کو ہولڈ میں رکھ کر اٹھی اور اس لفافے کو کھول کر اس میں موجود کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا 

      (اے میری پیاری )